Skip to main content

❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں


*بامحاورہ ترجمہ اور مختصر تفسیر*

سورۃُ النـَّبأ : 78 (مکی) کل آیات : 40
آج کا سبق نمبر : 4(4) آیت نمبر : 34 تا 40

بِسۡمِ ﷲِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

۔⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵۔ 

⭕ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ⭕
⭕ حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ⭕
⭕ وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ⭕

❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔
❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور
❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں

( آج کا سبق )

⭕ وَكَأْسًا دِهَاقًا ⭕
⭕ لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ⭕

➍❸ اور (اُن کی صحبت میں پینے کے لیـے) چھلکتے جام۔
➎❸ وہاں وہ کوئی بـے ہودہ بات اور کوئی بہتان نہ سنیں گے۔

📄 یعنی ان کے لیـے شرابِ خالص کے چھلکتے جام ہوں گے لیکن یہ شراب ان لغویات سے بالکل پاک ہو گی جو اس دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ کیف و سرور میں وہ سب سے بڑھ کر ہو گی لیکن عقل و ہوش کو ماؤف نہیں کرے گی کہ ترنگ میں آ کر انسان خیالی پلاؤ پکانے اور دروغ گوئی کرنے پر اتر آئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہـے کہ شراب کی بدمستی میں بسا اوقات شرابی ایسی بـے ہودہ تہمتیں بک دیتے ہیں جو خاندانوں اور قبیلوں میں مستقل دشمنی کا باعث بن جاتی ہیں۔📄

⭕ جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا ⭕

❻❸ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے بدلہ ہو گا، اُس کی عنایت بالکل اُن کے عمل کے حساب سے۔

📄 جس طرح پچھلی آیات میں کفار کے بارے میں فرمایا ہـے کہ ان کو ان کے اعمال کے بالکل ہم وزن اور ٹھیک ٹھیک ان کے موافق سزا ملے گی اسی طرح یہ اہل جنت کے بارے میں فرمایا کہ ان کو ان کی نیکیوں کا پورے حساب سے صلہ ملے گا۔ ﷲ تعالیٰ ان کی کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اور اہل ایمان کے لیـے فضل کا جو وعدہ ہـے وہ مزید برآں ہـے۔📄

⭕ رَّبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَـٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا ⭕

❼❸ زمین اور آسمانوں اور اُن کے درمیان کی ہر چیز کے پروردگار، خداے رحمن کی طرف سے۔ کسی کو یارا نہیں کہ اُس کی طرف سے کوئی بات کرے۔

📄 فرمایا کہ اہل ایمان کے لیـے یہ صلہ (جو مذکور ہوا) اس خدائے رحمان کی طرف سے ہو گا جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری ہی چیزوں کا خداوند ہـے، کوئی دوسرا کسی چیز میں اس کا شریک نہیں ہـے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکے۔📄 

⭕ يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا ⭕

❽❸ اُس دن، جب فرشتے اور جبریل امین، سب اُس کے حضور میں صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ اُس دن، وہی بولیں گے جنھیں رحمٰن اجازت دے اور وہ صحیح بات کہیں۔

📄 مشرکین کو سب سے زیادہ اعتماد فرشتوں کی سفارش پر تھا جن کو وہ اپنے زعم کے مطابق خدا کی بیٹیاں فرض کر کے پوجتے تھے۔ فرمایا کہ اس دن ان کا حال یہ ہو گا کہ جبریلؑ اور دوسرے ملائکہ رب العزت کے سامنے اس طرح صف بستہ حاضر ہوں گے جس طرح خدام اپنے آقا کے حضور میں حاضر ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی زبان کھولنے میں پہل نہیں کرے گا بلکہ وہی بات کرنے کی جرأت کریں گے جن کو خدائے رحمان کی طرف سے اجازت مرحمت ہو گی اور وہی بات کہیں گے جو بالکل ٹھیک ہو گی ۔۔۔ یعنی اگر مشرکین اس خبط میں مبتلا ہیں کہ ان کے دیوی دیوتا خدا سے جو بات چاہیں گے ناز اور ضد سے منوا لیں گے اور ان کے حق میں جو سفارش چاہیں گے کر دیں گے تو یہ محض ان کی خام خیالی ہـے۔📄

⭕ ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ مَآبًا ⭕

❾❸ یہ دن شدنی ہـے، اِس لیـے اب جو چاہـے، اپنے پروردگار کی طرف ٹھکانا بنا لے۔

📄 فرمایا کہ جس دن کی آمد سے ڈرایا جا رہا ہـے وہ شُدنی ہـے۔ وہ آ کے رہـے گا۔ نہ کوئی اس کو ٹال سکتا ہـے اور نہ کوئی اس دن کسی کے کام آنے والا بنے گا تو جو اپنی خیر چاہـے وہ اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانا بنا لے۔ اس معاملہ میں ﷲ اور رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہـے کہ لوگوں کو اس دن سے آگاہ کر دیا جائے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہـے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کا خوف اتار بھی دیا جائے۔ دوسری بات یہ کہ اس دن پناہ صرف ﷲ تعالیٰ ہی بنے گا، کسی اور کی پناہ اس دن کسی کو حاصل ہونے والی نہیں ہـے۔ تیسری بات یہ کہ ﷲ کو پناہ بنانے کا طریقہ یہ ہـے کہ اس دنیا میں اس کی بتائی ہوئی راہ اختیار کی جائے۔ جس نے یہاں اس کی راہ نہیں اختیار کی وہ آخرت میں اس کی پناہ نہیں حاصل کر سکے گا۔📄

⭕ إِنَّا أَنذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا ⭕

⓿➍ ہم نے تمھیں اُس عذاب سے آگاہ کر دیا ہـے جو قریب آ لگا ہـے، اُس دن، جب آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اُس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور منکر پکارے گا کہ اے کاش، میں مٹی ہوتا!

📄 یہ آخری تنبیہ ہـے۔ فرمایا کہ ہم نے ایک ایسے عذاب سے آگاہ کر دیا ہـے جو بالکل قریب آ چکا ہـے۔ یعنی رسول کی بعثت کے بعد قوم کا فیصلہ ہونا تو سنت الہیٰ کے مطابق قطعی ہـے اور یہ عذاب منکروں کے لیـے عذابِ قیامت کا پیش خیمہ ہو گا۔ یوں بھی عذابِ قیامت کو دور خیال کرنا نادانی ہـے۔ اس لیـے کہ یہ زندگی چند روزہ ہـے اور جو مرا اس کی قیامت اس کے سامنے ہـے۔ لہٰذا اس دن ہر شخص کے اعمال اس کے سامنے آئیں گے اور جنھوں نے اس دن کے لیے کوئی تیاری نہ کی ہو گی وہ اپنی محرومی اور بدبختی پر اپنے سر پیٹیں گے کہ کاش ہم مٹی ہی رہـے ہوتے، ہمارا وجود ہی نہ ہوا ہوتا!!📄

*روح کی غذا*

Comments

Popular posts from this blog

دیوث کسے کہتے ہیں اور دیوث کی سزا کیا ہے؟

*دیوث کسے کہتے ہیں اور دیوث کی سزا کیا  ہے؟* جو شخص اپنے اہل وعیال اور محرم عورتوں کے بارے دینی غیرت و حمیت سے خالی ہو یعنی ان کی بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو دیکھے لیکن خاموش رہے تو وہ دیوث ہے۔  ایسے شخص کے بارے حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف قیامت والے دیکھے گا بھی نہیں۔ ومَن لا يغار على أهله ومحارمه : يُسمَّى : " ديّوثاً " ، والدّياثة من الرّذائل الّتي ورد فيها وعيد شديد ، وما ورد فيه وعيد شديد يعدّ من الكبائر عند كثير من علماء الإسلام ، جاء في الحديث : ( ثلاثة لا ينظر اللّه عزّ وجلّ إليهم يوم القيامة : العاقّ لوالديه ، والمرأة المترجّلة ، والدّيّوث )- رواه النسائي ( 2561 ) وصححه الألباني في صحيح سنن النسائي . دیوث کون ہے؟؟؟؟؟؟ جو مرد اپنی عورتوں کے بارے غفلت کا شکار ہیں ایسے مرد کچھ اور نہیں بس دیوث {بے غیرت} ہیں۔۔ جو شخص غیرت مند نہیں ہوتا وہ ’’دیوث‘‘ ہوتا ہے۔’شرعی اصطلاح میں ’دیوث ‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے گھر میں بدکاری فحاشی اور غلط روش کودیکھتا ہے اور اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ایسے شخص کے متعلق فرمان نبوی ہے کہ وہ جنت میں نہیں جاسکے گا۔۔۔۔ حدیث رسول ...

‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“

بادشاہ نے وزیر سے پوچھا  ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“   وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا  ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“ ‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“  وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“  بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور اسے دو احکامات لکھنے کا حکم دیا‘  بادشاہ نے پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا‘  دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا‘  وزیر دونوں احکامات پر حیران رہ گیا‘  بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائی اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ”تمہارے پاس تیس دن ہیں‘ تم نے ان 30 دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں‘ تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا ...