Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Islamic

*ایک شخص کی چار بیویاں تھیں،چوتھی بیوی سے وہ بہت محبت کرتا تھا اور اس کو بنانے سنوارنے میں ہر وقت لگا رہتا تھا۔

•                👈 # چار_بـیـویـاں * 👉.          *ایک شخص کی چار بیویاں تھیں،* *چوتھی بیوی سے وہ بہت محبت کرتا تھا اور اس کو بنانے سنوارنے میں ہر وقت لگا رہتا تھا۔* *تیسری بیوی سے بھی وہ محبت کرتا تھا کیونکہ وہ بہت خوبصورت تھی جو اسے دیکھتا گرویدہ ہو جاتا اسی لئے اس کو یہ خوف لگا رہتا تھا کہ یہ کسی اور کی نہ ہو جائے* *اس لئے اسے چھپا چھپا کر رکھتا تھا۔* *دوسری سے بھی اسے بہت محبت تھی اس لئے کہ وہ اسکی ساری پریشانیوں کا حل اسے بتاتی اور ہمیشہ اس کی مدد کرتی رہتی۔* *مگر پہلی!!! پہلی سے وہ محبت نہیں کرتا تھا لیکن وہ اس سے بدستور محبت کرتی تھی۔* *------اب ہوا یہ کہ -----* *ایک دن وہ شخص اتنا بیمار ہوا کہ مرنے کے قریب ہوگیا،* *اس نے سوچا میرے پاس چار بیویاں ہیں کسی ایک کو تو مرتے ہوئے ساتھ لے جاؤں۔* *اس  نے چوتھی بیوی سے کہا کہ تم میرے ساتھ چلو----*  *میں نے تم پر اتنی توجہ دی اور اپنا مال بھی تم پر سب سے زیادہ خرچ کیا----* *★--جواب میں اس نے صاف صاف انکار کردیا۔* *تیسری بیوی سے کہا تو اس نے جواب دیا کہ---* *★--دنیا...

*🌹فضیلت یومِ جمعــہ:* سب سے بہترین دن جب سورج طلوع ہوتا ہے *جــــمعہ* کا دن ہے۔ 📚(صحیح مسلم: ٨٥٤)

🥀 _*جمعـــة المبارک کے مختصــر اہم کام احــادیثِ مبارکہ کی روشنی میں*_ 🥀 *🌹فضیلت یومِ جمعــہ:* سب سے بہترین دن جب سورج طلوع ہوتا ہے *جــــمعہ* کا دن ہے۔ 📚(صحیح مسلم: ٨٥٤)  *① جمعـــہ کے دن فجـــر کی فرض نماز میں "سورہ سجــدہ" اور "سورہ دھــر" کی تلاوت کرنا-* 📚(صحیح مسلم: ٨٨٠) *② مســــــواک کرنا-*  📚 (صحیح البخاری-٨٨٠) *③ مرد کا خـود بھی غســــــل کرنا اور بیـوی کو بھی غسـل کی تاکیـد کرنا-*  📚 (جامع الترمذی:٤٩٦ -حسن) *④ صاف ستھرے کپــــڑے پہننا-*  📚 (سنن ابوداؤد: ٣٤٧) *⑤ خــــوشبو لگانا اور بالوں میں تیــل لگانا-*  📚(صحیح البخاري: ٨٨٣) *⑥ جــمعہ کے لئے پیدل چل کر جانا-*  📚(سنن ابوداؤد :٣٤٥) *⑦ جمعـہ کے لئے امام سے پہلے مسجــد میں حاضـر رہنا-*  📚 (سنن ابوداؤد: ٣٤٥) *⑧ مسجــد میں داخل ہوتے ہی دو رکعت نفل(تحیة المسجد) ادا کرنا-* 📚(صحیح البخاری: ١١٦٧) *⑨ خـطیب( امام)کے قریب بیٹھنا-*  📚 (سنن ابوداؤد: ٣٤٥) *⑩ مقتدیوں کا خطبہ جمعہ غور سے اور خاموشی کے ساتھ سے سننا-*  📚 (سنن ابوداؤد: ٣٤٥) *⑪ دوران خطبہ فضول باتیـں اور فضول کام قطعاً نہ ...

.. اگر ہم اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے

اسلام علیکم دوستوں آج ایک آیت مبارکہ پر نظر ٹھہر گئی اور سوچنے لگا کہ واقعی ہم کس قدر ناشکرے ہیں۔ اگر ہم اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ پھر بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر کچھ شمار کرنے کی کوشش کی تو ہمت جواب دے گئی۔ ذیل میں کچھ عرض کرتا ہوں۔ ۱.ایمان   ۲.علم  ۳.عزت  ۴.صحت  ۵.دولت  ۶.ہدایت  چھ تک شمار کر کے ہی انسان سجدہ شکر پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان میں سے ہر نعمت بے مثال ہے۔ کچھ اور سوچا تو شکر کا کلمہ زبان پر جاری وساری ہے۔ اگر ہمارے منہ کا لعاب سوکھ جائے، کان میں میل پیدا نہ ہو، یا ناک میں بال نہ اگیں تو ہم کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی یہ نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے۔  ہمارے ٹیسٹ بڈز (ذائقہ محسوس کرنے کے سیل) میں سے اگر ایک گروپ خراب ہو جائے تو ہم ساری دنیا کی دولت دے کر بھی وہ واپس حاصل نہیں کر سکتے۔ آکسیجن جو ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہماری ایک دن کی آکسیجن اور ایک دن کی روشنی کی قیمت 8 لاکھ روپے ہے جو اللّٰہ تعالیٰ ہمیں مفت فراہم کر رہے ہیں۔ آنکھیں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے لیکن اس کی پلکیں کیا ہے اگر اس کے بارے می...

ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ‏قران پاک کے 101مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات۔

پلیز ایک دفعہ ضرور پڑ ھیں مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات اسے خود بھی اپنی زندگی میں شامل کریں اور اپنے چھوٹوںکو بھی عمل کرنے کی تلقین کریں تاکہ ہم سب مل کر ای بہترین معاشرے کو تشکیل کے لیے مدد گار بنیں۔۔۔  ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ‏قران پاک کے 101مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات۔۔۔۔۔ 1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو،  سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 83 2  غصے کو قابو میں رکھو سورۃ آل عمران ، آیت نمبر 134 3  دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو، سورۃ القصص، آیت نمبر 77 4  تکبر نہ کرو،  سورۃ النحل، آیت نمبر 23  5  دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو،  سورۃ النور، آیت نمبر 22 6  لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو،  سورۃ لقمان، آیت نمبر 19 7  اپنی آواز نیچی رکھا کرو، سورۃ لقمان، آیت نمبر 19 8  دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو،  سورۃ الحجرات، آیت نمبر 11 9  والدین کی خدمت کیا کرو، سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23 ‏10  والدین سے اف تک نہ کرو، سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23 11  والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو،   س...

قرآن شریف ایک لاغر نوجوان کی شکل میں آئے گا اور صاحب قرآن سے کہے گا کیا تم مجھے جانتے ہو ؟

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن قرآن ایک لاغر نوجوان کی شکل میں آئے گا اور صاحب قرآن سے کہے گا کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ میں وہ ہوں جو تمہارا رات کا ساتھی تھا۔ میں تمہاری گرم دوپہر میں تمہاری پیاس کی راحت تھا۔ ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے تھا اور آج میں تاجروں (جو قرآن سے اعراض کرتے ہوئے اپنی تجارت میں مصروف تھے) کی بجائے  آپ کے ساتھ ہوں، تب صاحب قرآن کو دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں دوام عطا کیا جائے گا، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اس کے والدین کو دو ایسے جبے پہنائے جائیں گے، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کے برابر نہیں ہو گا۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب! یہ ہمارے لئے کس وجہ سے؟ تو کہا جائے گا تم نے اپنے بچے کو قرآن کی تعلیم دی۔ اور قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا، پڑھو اور درجات چڑھتے جاؤ، اور اس طرح ٹھہر ٹھہر کر جس طرح دنیا میں پڑھتے تھے، تمہاری منزل آخری آیت پر ہے۔" السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی۹۲۸۲.

🌹 بلندی پر پہنچنے سے پہلے *بنیادوں* کو ٹھیک کریں

🥀 _*اگر آپ نے دنیا بدلنی ہے تو خود کو بدل ڈالیے*_ 🥀 🌹 جو اپنے حالات نہیں بدل سکتا وہ دنیا کو کیا بدلے  گا دن کا پہلا کام بڑا اہم ہوتا ہے جب صبح اٹھیں تو نماز فجر سے آغاز اچھا کریں اور اذکار و قران کے بعد پورے دن کی پلاننگ کر لیجیے 🌹 صبح کے چند کام جو آپ نے بڑے بہترین انداز سے کیے ہوں آپ کو دوسرے بڑے کام کرنے کی *ہمت* دیتے ہیں ہر دن ایسے اٹھیں کہ آپ ایک بڑا کام کرنے جا رہے ہیں دنیا بدلنے جا رہے ہیں فتح کے جھنڈے گاڑنے جارہے ہیں اونچے پہاڑوں کو فتح کرنے جارہے ہیں 🌹 بلندی پر پہنچنے سے پہلے *بنیادوں* کو ٹھیک کریں   🌹 ہم سب کی زندگی میں *چیلنج مشکلات اور مسائل* ہیں مسلہ تب بڑا لگتا ہے جب ہم خود اس مسئلہ کو بڑا ماننے لگتے ہیں 🌹 آپ کے اندر کی آواز اور یقین کہ کوئی مجھے ہرا نہیں سکتا، یہ یقین ہی آپ کو کامیابی تک پہنچائے گا  🌹 کتنا ہی اندھیرا ہو یہ اندھیرا ضروری ہے ستاروں کے چمکنے کے لیے آپ کے dark moments بہترین moments بن سکتے ہیں صرف آپ کےایک ارادے اور عزم سے  🌹 امید نہیں چھوڑنی ہمت نہیں ہارنی نگاہ بلند رکھی ہیں عزم پختہ رکھنے ارادے مضبوط رکھنے ہیں اپنی قوت ارادی س...

ایک آدمی دریا کے کنارے بیٹھا تھا کچھ لوگوں نے پوچھا کیا کررہے ہو ؟

ایک نصیحت ہم سب کیلئے ایک آدمی دریا کے کنارے بیٹھا تھا کچھ لوگوں نے پوچھا کیا کررہے ہو ؟ وہ بولا ! پانی کے ختم ہونے کا انتظار کررہا ہوں جب سارا پانی ختم ہوگا....تب دریا پار کروں گا وہ لوگ کہنے لگے ! کیسی بیوقوفی کی بات کررہے ہو, پانی ختم ہونے کے انتظار میں تو تمھاری زندگی ختم ہوجائے گی....گزرنا ھے تو ہمت کرو اور گزر جاؤ یہ سن کر اس بندے نے ان کی طرف دیکھا اور درد بھرے لہجے میں بولا یہی تو میں تمھیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ..... تم لوگ جو یہ ہمیشہ سوچتے ہو کہ جب زندگی کی مصروفیات ختم ہوں گی تب.....اللہ کے فرمانبردار بنیں گے , نماز پڑھیں گے , نیکی کے کام کریں گے تو یاد رکھوجس طرح دریا کا پانی ختم ہونے سے پہلے میری زندگی ختم ہوجائے گے.....اسی طرح تمھاری مصروفیات ختم ہونے سے پہلے.....تمھاری زندگی ختم ہوجائے گی اگر اپنی آخرت کیلئے کچھ کرنا ھے....تو پھر ہمت کرو اور کر گزرو کیونکہ جو کچھ بھی کرنا ھے تم نے خود ہی کرنا ھے* اللہ‎ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے۔آمین

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ،

#وقت_اور_دولت #حکایت ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا: " تمھاری عمر کتنی ہے؟" تاجر نے کہا "20 سال۔ " " تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ " تا جرنے کہا۔۔۔ "70 ہزار دینار" بادشاہ نے پوچھا: "تمھارے بچے کتنے ہیں؟ " تاجر نے جواب دیا: "ایک" واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا: "اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس ...

Introduction about me

میرا نام: مستور رہنے میں ہی عافیت ہے اور کسی کا نقصان بھی نہیں۔  رہائش :: اللہ رب العزت کی زمین پر ایک خوبصورت گھر مشغلہ : باطل عقائد کا رد کرنا ہے،قران و سنت کے علم کو عام کرنے کی کوششوں میں اپنا بھی حصہ ڈالنا، جہاد میری زندگی میری خواہش: "بس اک تمنا اور یہی ہے شوق،،،سعادت کی زندگی اور شھادت کی موت" زندگی کا مقصد : قرآن اور سنت پر عمل کرنا اور کروانے میں اپنا کردار ادا کرنا زندگی کا طریقہ: اطیعواللہ و اطیعواالرسول   رہنما: محمد صلی اللہ علیہ وسلم، میرا مذہب:  دین میرا اسلام ہے ،علماء دیوبند اور اکابرین دیوبند سے متفق ہوں،اور جو بھی شریعت مطہرہ پہ عمل کرنے والا ہو اسکا دل سے احترام کرتی ہوں،  اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کی غلامی قبول نہیں۔  اہل حق اساتذہ کی تلامذہ ہونے پر فخر ہے۔۔ شریعت کے نظام کے علاوہ کسی بھی نظام کو باطل مانتی ہوں،          اللہ رب العزت اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مقابلے میں کسی بھی شخص چاہے جو بھی ہو کے قول کو حجت نہیں مانتی، حکیم ذات صرف میرا رب ہے اسکے علاوہ کوئی نہیں. ...

ایک دفعہ میں حج کرنے گیا ، وہاں منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں مَیں نے ایک شخص کو دیکھا جو بلند آواز کے ساتھ بار بار پکار رہا تھا لبیک لبیک لبیک اور غیب سے آواز آتی لا لبیک لا لبیک لالبیک سرکار فرماتے ہیں

 حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حج کرنے گیا ، وہاں منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں مَیں نے ایک شخص کو دیکھا جو بلند آواز کے ساتھ بار بار پکار رہا تھا لبیک لبیک لبیک اور غیب سے آواز آتی لا لبیک لا لبیک لالبیک سرکار فرماتے ہیں کہ یہ سارا ماجرا دیکھ کر میں نے اس شخص کو بازو سے پکڑا اور بھرے مجمع سے باہر لے آیا اور پوچھابھلے مانس تجھے پتہ ہے کہ جب تو پکارتا ہے کہ اےمیرے اللّہ ﷻ میں حاضر ہوں تو عالمِ غیب سے حاتِب کی آوز آتی ہے نہیں تو حاضر نہیں ہے تو وہ شخص بولا ہاں معین الدینؒ میں جانتا ہوں اور یہ سلسلہ پچھلے 24 سالوں سے جاری ہے یہ میرا چوبیسواں حج ہے وہ بڑا بے نیاز ہے میں ہر سال یہی امید لیکر حج پر آتا ہوں کہ شايداس دفعہ میرا حج قبول ہو جاۓ لیکن ہر سال ناکام لوٹ جاتاہوں سرکارؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا کہ ہر بار ناکامی ،اور نامرادی کے باوجود تو پھر کیوں چلا آتا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ رُندھی  ہوٸی آواز میں گڑگڑاتے ہوۓ بولا  ۔ اے معین الدینؒ تو بتا میں یہاں نہ آٶں تو کدھر جاٶں اُس کے سوا میرا کون ہےکون میری باتیں سننے والا ہےکون ...

سیدّنا مصعب بن عمیر رضی اللٰہ عنہ

 سیدّنا مصعب بن عمیر رضی اللٰہ عنہ  مکہ کے امیر ترین اور وجیہہ ترین نوجوانوں میں ایک نمایاں نام مصعب بن عمیر کا تھا۔ خوبصورت اس قدر کہ عرب کی شاعرات میں ان کے حُسن کی مدح میں شعر کہنا عام تھا اور امیر اس قدر کہ پاؤں میں یمن سے خالص چمڑے کے جوتے منگوا کر پہنتے تھے اور بدن پر ہندوستان کی ریشمی پوشاکیں ہوتی تھیں اور سب سے زیادہ مشہور وہ خوشبوئیں تھی جو وہ استعمال کرتے۔ مصعب کے ماں اور باپ، دونوں ہی بہت مالدار اور اعلیٰ نسب ہونے کے سبب مکہ کی اشرافیہ کی سماجی زندگی میں بہت متحرک تھے اور ان کا گھر سردارانِ قریش کی پرتعیش دعوتوں کا مرکز تھا۔ اس ماحول میں پل کر نہ صرف یہ کہ مکہ کے سماج کی ہر اونچ نیچ کو مصعب بہت جلدی سمجھ گئے بلکہ ان کے طور اطوار اور بول چال بھی ایسی ہوگئی کہ ہر شخص فوراً ان کے سحر میں جکڑا جاتا تھا۔  لیکن پھر نبوت کے چوتھے سال جب آپ رض کی عمر بعض روایات کے مطابق بیس اور بعض کے مطابق سولہ سال تھی ۔۔۔ مصعب سیدّنا محمد صلی اللٰہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے لائے ہوئے دین کی محبت میں گرفتار ہوگئے اور دارارقم میں آنے جانے لگے۔ شروع میں اپنی ماں کے خوف سے جو اسلام کی سخ...