Skip to main content

🌹 بلندی پر پہنچنے سے پہلے *بنیادوں* کو ٹھیک کریں

🥀 _*اگر آپ نے دنیا بدلنی ہے تو خود کو بدل ڈالیے*_ 🥀


🌹 جو اپنے حالات نہیں بدل سکتا وہ دنیا کو کیا بدلے  گا
دن کا پہلا کام بڑا اہم ہوتا ہے جب صبح اٹھیں تو نماز فجر سے آغاز اچھا کریں اور اذکار و قران کے بعد پورے دن کی پلاننگ کر لیجیے

🌹 صبح کے چند کام جو آپ نے بڑے بہترین انداز سے کیے ہوں آپ کو دوسرے بڑے کام کرنے کی *ہمت* دیتے ہیں ہر دن ایسے اٹھیں کہ آپ ایک بڑا کام کرنے جا رہے ہیں دنیا بدلنے جا رہے ہیں فتح کے جھنڈے گاڑنے جارہے ہیں اونچے پہاڑوں کو فتح کرنے جارہے ہیں

🌹 بلندی پر پہنچنے سے پہلے *بنیادوں* کو ٹھیک کریں
 
🌹 ہم سب کی زندگی میں *چیلنج مشکلات اور مسائل* ہیں مسلہ تب بڑا لگتا ہے جب ہم خود اس مسئلہ کو بڑا ماننے لگتے ہیں

🌹 آپ کے اندر کی آواز اور یقین کہ کوئی مجھے ہرا نہیں سکتا، یہ یقین ہی آپ کو کامیابی تک پہنچائے گا 

🌹 کتنا ہی اندھیرا ہو یہ اندھیرا ضروری ہے ستاروں کے چمکنے کے لیے آپ کے dark moments بہترین moments بن سکتے ہیں صرف آپ کےایک ارادے اور عزم سے 

🌹 امید نہیں چھوڑنی ہمت نہیں ہارنی نگاہ بلند رکھی ہیں عزم پختہ رکھنے ارادے مضبوط رکھنے ہیں اپنی قوت ارادی سے ہر مشکل کو آسان بنانا ہے

🌹 روزانہ صرف *ایک فیصد* تبدیلی سے آپ مکمل زندگی بدل سکتے ہیں

🌹 روز *مسکرا* کر دیکھے دوسروں کو عزت دینا شروع کریں، ایسے درخت لگائیں جن کی چھاؤں میں آپ نے نہیں بیٹھنا، ایسے کنویں کھودیں جن کا پانی بھی آپ نے نہیں پینا، آپ حالات کو نہ بدل سکیں تو خود کو بدل دیں تقدیر خود بدل جائے گی
👈🏻 پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں

_*مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کے لیے daily vist کریں. 

Comments

Popular posts from this blog

دیوث کسے کہتے ہیں اور دیوث کی سزا کیا ہے؟

*دیوث کسے کہتے ہیں اور دیوث کی سزا کیا  ہے؟* جو شخص اپنے اہل وعیال اور محرم عورتوں کے بارے دینی غیرت و حمیت سے خالی ہو یعنی ان کی بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو دیکھے لیکن خاموش رہے تو وہ دیوث ہے۔  ایسے شخص کے بارے حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف قیامت والے دیکھے گا بھی نہیں۔ ومَن لا يغار على أهله ومحارمه : يُسمَّى : " ديّوثاً " ، والدّياثة من الرّذائل الّتي ورد فيها وعيد شديد ، وما ورد فيه وعيد شديد يعدّ من الكبائر عند كثير من علماء الإسلام ، جاء في الحديث : ( ثلاثة لا ينظر اللّه عزّ وجلّ إليهم يوم القيامة : العاقّ لوالديه ، والمرأة المترجّلة ، والدّيّوث )- رواه النسائي ( 2561 ) وصححه الألباني في صحيح سنن النسائي . دیوث کون ہے؟؟؟؟؟؟ جو مرد اپنی عورتوں کے بارے غفلت کا شکار ہیں ایسے مرد کچھ اور نہیں بس دیوث {بے غیرت} ہیں۔۔ جو شخص غیرت مند نہیں ہوتا وہ ’’دیوث‘‘ ہوتا ہے۔’شرعی اصطلاح میں ’دیوث ‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے گھر میں بدکاری فحاشی اور غلط روش کودیکھتا ہے اور اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ایسے شخص کے متعلق فرمان نبوی ہے کہ وہ جنت میں نہیں جاسکے گا۔۔۔۔ حدیث رسول ...

❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں

*بامحاورہ ترجمہ اور مختصر تفسیر* سورۃُ النـَّبأ : 78 (مکی) کل آیات : 40 آج کا سبق نمبر : 4(4) آیت نمبر : 34 تا 40 بِسۡمِ ﷲِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵۔  ⭕ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ⭕ ⭕ حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ⭕ ⭕ وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ⭕ ❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں ( آج کا سبق ) ⭕ وَكَأْسًا دِهَاقًا ⭕ ⭕ لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ⭕ ➍❸ اور (اُن کی صحبت میں پینے کے لیـے) چھلکتے جام۔ ➎❸ وہاں وہ کوئی بـے ہودہ بات اور کوئی بہتان نہ سنیں گے۔ 📄 یعنی ان کے لیـے شرابِ خالص کے چھلکتے جام ہوں گے لیکن یہ شراب ان لغویات سے بالکل پاک ہو گی جو اس دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ کیف و سرور میں وہ سب سے بڑھ کر ہو گی لیکن عقل و ہوش کو ماؤف نہیں کرے گی کہ ترنگ میں آ کر انسان خیالی پلاؤ پکانے اور دروغ گوئی کرنے پر اتر آئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہـے کہ شراب کی بدمستی میں بسا اوقات شرابی ایسی بـے ہودہ تہمتیں بک دیتے ہیں جو ...

‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“

بادشاہ نے وزیر سے پوچھا  ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“   وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا  ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“ ‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“  وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“  بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور اسے دو احکامات لکھنے کا حکم دیا‘  بادشاہ نے پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا‘  دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا‘  وزیر دونوں احکامات پر حیران رہ گیا‘  بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائی اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ”تمہارے پاس تیس دن ہیں‘ تم نے ان 30 دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں‘ تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا ...