سیدّنا مصعب بن عمیر رضی اللٰہ عنہ
مکہ کے امیر ترین اور وجیہہ ترین نوجوانوں میں ایک نمایاں نام مصعب بن عمیر کا تھا۔ خوبصورت اس قدر کہ عرب کی شاعرات میں ان کے حُسن کی مدح میں شعر کہنا عام تھا اور امیر اس قدر کہ پاؤں میں یمن سے خالص چمڑے کے جوتے منگوا کر پہنتے تھے اور بدن پر ہندوستان کی ریشمی پوشاکیں ہوتی تھیں اور سب سے زیادہ مشہور وہ خوشبوئیں تھی جو وہ استعمال کرتے۔ مصعب کے ماں اور باپ، دونوں ہی بہت مالدار اور اعلیٰ نسب ہونے کے سبب مکہ کی اشرافیہ کی سماجی زندگی میں بہت متحرک تھے اور ان کا گھر سردارانِ قریش کی پرتعیش دعوتوں کا مرکز تھا۔ اس ماحول میں پل کر نہ صرف یہ کہ مکہ کے سماج کی ہر اونچ نیچ کو مصعب بہت جلدی سمجھ گئے بلکہ ان کے طور اطوار اور بول چال بھی ایسی ہوگئی کہ ہر شخص فوراً ان کے سحر میں جکڑا جاتا تھا۔
لیکن پھر نبوت کے چوتھے سال جب آپ رض کی عمر بعض روایات کے مطابق بیس اور بعض کے مطابق سولہ سال تھی ۔۔۔ مصعب سیدّنا محمد صلی اللٰہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے لائے ہوئے دین کی محبت میں گرفتار ہوگئے اور دارارقم میں آنے جانے لگے۔ شروع میں اپنی ماں کے خوف سے جو اسلام کی سخت مخالف تھیں، مصعب نے اپنے اسلام کو خفیہ رکھا لیکن ایک دن کسی نے انہیں دارارقم میں جاتا دیکھ لیا اور ان کے گھر والوں کو بتا دیا۔ اسی ماں نے جو مصعب کے لیے بہترین کھانے اور لباس سے کمتر کچھ قبول نہ کرتی تھی، آپ رض کو گھر میں باندھ دیا۔ لیکن مصعب کم عمری کے باوجود ڈٹے رہے اور سختیاں سہتے رہے یہاں تک کہ سرکار دو عالم نے آپ کو حبشہ ہجرت کا حکم دیا۔
جب بیعت عقبہ اولیٰ ہوئی اور یثرب سے چند لوگوں نے اسلام قبول کیا تو ان یثربی نومسلموں نے درخواست کی کہ ہمارے شہر میں تبلیغ کے لیے کسی شخص کو بھیجا جائے۔ آنحضرت صلی اللٰہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ میں سے مصعب بن عمیر کا انتخاب کیا کیونکہ آپ رض خوش اخلاق تھے، فصاحت و بلاغت رکھتے تھے اور سفارت کاری بھی جانتے تھے۔ مصعب نے یثرب جاکر وہ کام کیا کہ صحابہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ ہوجائے گا۔ نوجوان مصعب جن کی عمر اس وقت بمشکل تئیس سے ستائیس سال تھی، مدینہ کے مشرک عرب قبائل کے سب بڑے بڑے سرداروں سعد بن معاذ، سعد بن عبادہ، اسید بن حضیر سمیت مدینہ کے لوگوں کی اکثریت کو کلمہ پڑھا آئے اور یوں مصعب کی امامت میں ہجرت سے پہلے مدینہ میں پہلی باجماعت نماز ادا کی گئی۔ بیعت عقبہ ثانیہ میں آپ کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے ستر یثربی نمائندوں نے آنحضرت ص کے ہاتھ پر بیعت کی اور انہیں مدینہ تشریف لانے کی دعوت دی۔
بدر و احد میں آپ کو اسلامی لشکر کا علم عطاء کیا گیا۔ ان دونوں جنگوں میں سب سے نمایاں اور متحرک مجاہدین میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ احد میں جب جنگ کا پانسہ مسلمانوں کے خلاف پلٹ گیا اور کفار مصطفیٰ جان رحمت پر حملہ آور ہونے لگے تو مصعب بن عمیر خطرہ بھانپ گئے اور علم لے کر کفار کے قریب کھڑے ہوگئے اور اللہٰ اکبر کے نعرے بلند کرنے لگے۔ مصعب کا قد، رنگت اور لہجہ بالکل رسول پاک کے مشابہ تھا۔ چنانچہ سیدّنا مصعب یہ چاہتے تھے کہ کفار کو دھوکہ ہو اور ان کا دھیان آقا کریم کے کیمپ کی طرف سے ہٹ جائے۔ مشرکین جب آپ پر ٹوٹ پڑے تو آپ نے بہادری سے مقابلہ کیا۔ دایاں ہاتھ ضائع ہوا تو بائیں سے علم تھاما اور وہ بھی کٹ گیا تو پرچم بازوؤں میں دبا لیا لیکن جب تک آخری سانس باقی رہی، پرچم کو گرنے نہیں دیا۔ یہاں تک کہ جنگ احد کے اختتام تک آپ چونسٹھ دیگر صحابہ کے ساتھ جامِ شہادت نوش کرنے والوں میں شامل ہوچکے تھے۔ شہادت کے وقت عمر ستائیس یا تیس سال تھی۔
وہ مصعب جس کا لباس کبھی پورے مکہ میں سب سے اعلیٰ ہوتا تھا، مسلمان ہوکر اس دنیا سے گئے تو صرف ایک چادر تھی جس سے ان کا کفن بن سکے اور وہ بھی ایسی کہ پاؤں ڈھانپو تو سر نہیں ڈھانپا جاتا تھا اور سر ڈھانپو تو پاؤں رہ جاتے تھے۔ آقا کریم نے حکم دیا کہ سر ڈھانپ دو پاؤوں پر پتے ڈال دو۔
شہادت سے قبل ایک دن مصعب بن عمیر اس حال میں آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ جسم پر ایک بوسیدہ کملی تھی اور کمر پر بکرے کے چمڑے کا تسمہ بندھا ہوا تھا۔ آنحضرت نے ان کو دیکھ کر صحابہ سے فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو جس کا قلب اللہ تعالیٰ نے نور ایمان سے جگمگا دیا ہے۔ میں نے اس شخص کو مکہ میں اس حال میں دیکھا کہ اس کے ماں باپ اس کو بہترین سے بہترین چیزیں کھلاتے پلاتے تھے اور میں نے خود اس کے جسم پر ایسا جوڑا دیکھا ہے جو دو سو درہم میں خریدا گیا تھا، مگر اب اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت نے اس کو اس حالت میں پہنچا دیا ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھتا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
نبی پاک کی پھپھی زاد بہن حمنیٰ بنت جحش رض مصعب رض کی بیوہ تھیں۔ اس نسبت سے آپ رض آنحضرت کے بہنوئی ہونے کے ساتھ ساتھ ہم زلف بھی ہیں کیونکہ حمنیٰ کی بہن ام المومنین زینب بنت جحش رض بعد میں رسول کریم کے نکاح میں آئیں۔

Comments
Post a Comment