اسلام علیکم دوستوں آج ایک آیت مبارکہ پر نظر ٹھہر گئی اور سوچنے لگا کہ واقعی ہم کس قدر ناشکرے ہیں۔
اگر ہم اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے۔
پھر بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر کچھ شمار کرنے کی کوشش کی تو ہمت جواب دے گئی۔
ذیل میں کچھ عرض کرتا ہوں۔
۱.ایمان
۲.علم
۳.عزت
۴.صحت
۵.دولت
۶.ہدایت
چھ تک شمار کر کے ہی انسان سجدہ شکر پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان میں سے ہر نعمت بے مثال ہے۔
کچھ اور سوچا تو شکر کا کلمہ زبان پر جاری وساری ہے۔
اگر ہمارے منہ کا لعاب سوکھ جائے، کان میں میل پیدا نہ ہو، یا ناک میں بال نہ اگیں تو ہم کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی یہ نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے۔
ہمارے ٹیسٹ بڈز (ذائقہ محسوس کرنے کے سیل) میں سے اگر ایک گروپ خراب ہو جائے تو ہم ساری دنیا کی دولت دے کر بھی وہ واپس حاصل نہیں کر سکتے۔
آکسیجن جو ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہماری ایک دن کی آکسیجن اور ایک دن کی روشنی کی قیمت 8 لاکھ روپے ہے جو اللّٰہ تعالیٰ ہمیں مفت فراہم کر رہے ہیں۔
آنکھیں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے لیکن اس کی پلکیں کیا ہے اگر اس کے بارے میں سوچیں تو ہمارے زبانیں شکر ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
ایک صاحب کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور ان کی آنکھ کے اوپر والا پردہ پلکیں کٹ گئی۔
تب انہیں احساس ہوا کہ یہ اللہ تعالی کی کتنی بڑی نعمت تھی۔
اللہ تعالی نے آنکھوں کے اندر ایسا نظام رکھا ہے کہ دھول مٹی اڑتی ہے تو پلکیں بار بار چپکتی ہیں۔ اور آنکھوں کے اندر پانی کا نظام رکھا گیا ہے جو آنکھوں کو صاف رکھتا ہے۔
واقعہ یہ ہوا کہ جب جب ان کی آنکھوں میں دھول مٹی پڑتی تھی تو جم جاتی تھی اور انہیں دیکھنے میں مشکل ہوتی وہ بار بار پانی سے آنکھیں دھوتے رہے دن میں تقریباً پچاس بار انہوں نے آنکھیں دھوئیں۔
اس سے آگے شمار کرنے کی ہمت ہی نہیں ہو پا رہی اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے امین۔

Comments
Post a Comment