اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ۚوَلَئِنۡ زَالَــتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِهٖ ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا ۞
" بےشک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ (اپنے راستے سے) ہٹ نہ جائیں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے بعد کوئی نہیں جو ان کو تھام سکے یقینا وہ بہت بردبار بہت بخشنے والا ہے "
سورۃ 35 فاطر - آیت 41
اس آیت سے فلیٹ ارتھرز یہ رزلٹ نکالتے ہیں کہ اللہ زمین کو روکے ہوۓ ہے یہ حرکت نہیں کرتی
جبکہ آیت میں زمین نہیں بلکہ آسمانوں اور زمین کا لفظ ہے جس سے مراد پوری کائنات ہے (اس کی وضاحت میں پہلے بھی ایک پوسٹ میں کر چکا ہو
جیسا کہ ہم علم فلکیات کے ذریعے جانتے ہیں کہ کائنات میں کوئی بھی چیز ساکن نہیں ہے ہر سیارہ، ستارہ اور گلیکسی حرکت میں ہے
تو اس آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ آسمانوں اور زمین یعنی کہ یہ پوری کائنات جو اپنے اپنے رستے پر چل رہی ہے اس کو اس کے رستے میں رکھنے والا اللہ ہی ہے
اگر اللہ ان کو چھوڑ دے تو یہ سب کچھ آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جاۓ گا اور انسانیت کا وجود ختم ہو جاۓ گا
یہی بات ہم سائنس کے ذریعے بھی جانتے ہیں کہ اگر زمین اپنے مدار سے آگے یا پیچھے نکل جاۓ تو ہمارا اس پر رہنا ممکن نہیں ہو گا زمین سورج سے بلکل پرفیکٹ فاصلے پر ہے جس کی وجہ سے ہم یہاں رہ رہے ہیں اور ہمارے موسم تبدیل ہوتے ہیں


Comments
Post a Comment