رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق مدینہ پہنچنے سے پہلے مدینہ کے قریب ہی ایک جگہ پڑاؤ کیا گیا.... ۔
کیا تم نہیں پسند کرتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف فرما دے؟
غزوہ بنی المصطلق سے واپسی جاری ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق مدینہ پہنچنے سے پہلے مدینہ کے قریب ہی ایک جگہ پڑاؤ کیا گیا۔ قافلے کے ساتھ اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بھی ساتھ تھیں۔ قافلہ جب دوبارہ چلا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا اپنے "ہودج" میں نہیں تھیں۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے یہ سمجھ کر (ڈولی نما) ہودج کو اٹھا لیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا اپنے ہودج کے اندر ہی ہیں۔ دوسری طرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا قافلے سے ہٹ کر اپنا گُم شدہ ہار تلاش کر رہیں تھیں۔
عائشہ رضی اللہ عنھا جب واپس قافلے والی جگہ پر پہنچیں تو دیکھا کہ قافلہ جا چکا ہے۔ حواس باختہ ہونے یا قافلے کے پیچھے بھاگنے کی بجائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے مناسب سمجھا کہ یہیں پر انتظار کیا جائے۔ جب قافلے والوں کو علم ہو گا کہ میں اپنے ہودج میں نہیں ہوں تو وہ واپس اسی جگہ آ جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• یہ بھی ایک صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کا نام صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ ہے۔ انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلے سے کچھ فاصلے پر رہتے ہوئے قافلے کے پیچھے پیچھے چلنے کی تلقین کر رکھی ہے۔ تا کہ قافلے کی (پڑاؤ والی جگہوں پر) پیچھے رہ جانے والی یا گر جانے والی اشیاء کی حفاظت کی جا سکے۔ جب صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا وہاں موجود ہیں۔ صفوان رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ قافلے والے غلطی سے عائشہ رضی اللہ عنھا کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔
صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنھا کو دیکھ کر بولے کہ "انّا للہ و انّا الیه راجعون" اور پھر اپنے اونٹ پر عائشہ رضی اللہ عنھا کو بٹھایا۔ خود اونٹ کی نکیل پکڑے آگے آگے چلنے لگے۔ حضرت عائشہ اور صفوان بن معطل رضی اللہ عنھما جب قافلے میں جا کر ملے تو وہاں موجود منافقین (بالخصوص عبد اللہ بن ابی) نے اس موقع کو غنیمت جانا۔ منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاک دامن پر الزام لگا دیا کہ یہ قافلے کے پیچھے صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا کر رہی تھیں؟ ضرور کوئی اور معاملہ ہے۔ اس واقہ کو قرآن پاک میں "افک" کہا گیا ہے۔ افک کا معنی ہے کسی بات یا معاملے کو اُلٹا دینا۔ جیسے منافقین نے اس بات کو الٹا کر کچھ مخلص مسلمانوں کو بھی اپنے مذموم مؤقف کی تائید کے لیے ساتھ ملا لیا۔
مختصرًا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشان اور خاموش رہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی نے سورہ النور کو نازل فرما کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے کردار پر باحیا اور پاک دامن ہونے کی مُہر ثبت کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس گھناؤنی سازش کے اصل ذمہ دار منافقین ہی تھے۔ جو قدم قدم پہ اسلام کے خلاف سازشوں کے جال بُن رہے تھے۔ تاہم کچھ مخلص مسلمان (حسان اور مِسطح بن اثاثہ وغیرہ رضی اللہ عنھما) بھی ان کی اس سازش سے دھوکہ کھا گئے۔
• منافقین کے اس پروپیگنڈے کا شکار ہونے والے ان مخلص مسلمانوں میں مِسطَح بن اُثاثہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ یہ ابو ابکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کزن (خالہ زاد بھائی) تھے۔ ان کے بچپن ہی میں ان کے والد کی وفات ہو گئی تھی۔ ان کا شمار ان مہاجرین میں تھا جو انتہائی تنگدستی کی حالت میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے معاشی حالات بہت خراب تھے، لہذا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ (جو کہ مالی طور پر مضبوط تھے) نے ان کی کفالت اپنے ذمے لے رکھی تھی۔
جب منافقین نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی (عائشہ رضی اللہ عنھا) پر تہمت لگائی تو مِسطح رضی اللہ عنہ بھی منافقین کی اس چال میں آ گئے اور اس الزام کو سچ سمجھ بیٹھے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (انسانی فطرت کے ہاتھوں مجبور اورصدمے سے دوچار ہو کر) یہ قسم کھا لی کہ "آئندہ وہ مِسطح بن اُثاثہ رضی اللہ عنہ کی کفالت نہیں کریں گے۔ انہیں کوئی نفع نہیں پہنچائیں گے" انسان ہونے کے ناطے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ اپنی جگہ درست تھا لیکن۔۔۔۔۔۔۔
• اللہ اور اس کے رسول کے ہاں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جو اہمیت تھی اور جو مقام تھا، اس لحاظ سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شایانِ شان نہیں تھا۔ اللہ تعالی نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو متنبہ کرنے اور سمجھانے کے لیے قرآن پاک میں یہ آیت اتار دی :
"اور تم میں سے جو اہلِ فضل اور آسُودہ حال ہیں، انہیں اس بات پر قسم نہیں کھانی چاہیے کہ وہ (آئندہ اپنے) رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ھجرت کرنے والوں کو نہیں دیں گے۔ اور انہیں چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں۔ کیا تم نہیں پسند کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے"
(سورہ النور آیت 22)
• اس آیت میں سمجھایا گیا کہ (انسان ہونے کے ناطے) غلطیاں و کوتاہیاں تم سے بھی ہوتی رہتی ہیں۔ تو کیا اللہ تمہیں دینا بند کر دیتا ہے؟ کیا تم اللہ کے ہاں بار بار معاف کیے جانے کی خواہش نہیں رکھتے؟ کیا تمہیں اللہ بار بار معاف نہیں کرتا؟ (یقینًا کرتا ہے) تو پھر تم بھی اسی طریقے کو اپناؤ۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ یہ آیت سُن کر بھی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے مؤقف کو نہ بدلتے۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی اپنی کھائی ہوئی قسم کا کفّارہ ادا کیا اور دوبارہ سے اپنے خالہ زاد بھائی مِسطح بن اُثاثہ رضی اللہ عنہ کی کفالت اپنے ذمے لے لی۔ ایک مومن مسلمان کو یہی زیب دیتا ہے کہ "جہاں پر اس کے ربّ کا حُکم آ پہنچے، اس مسلمان کا سر وہیں جُھک جائے۔ اور ایسے جُھکے ہوئے سروں کی عظمت کو ربّ تعالی قیامت تک کے لیے بلند کر دیتا ہے۔
نوٹ :
واقعہ افک قرآن پاک، صحیح احادیث اور تفاسیر میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس واقعہ اور اس آیت سے حاصل شدہ چند ایک نفع بخش باتیں :
• قافلے کی صورت میں سفر کے دوران اپنے پیچھے ایک دو بندوں کو بغرضِ حفاظت چھوڑنا حفاظتی اقدامات کا ایک بہترین اُصول ہے۔
• مسلمان ہو یا کافر، یہودی ہو یا عیسائی کوئی بھی انسان ہو۔ انسانی فطرت بعض معاملات میں ایک سا رویہ رکھتی ہے۔ انسانی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کی جانے والی بھول، خطا/گناہ سے رجوع کر لینے والا انسان اپنی فطرت پر بازی لے جاتا ہے۔ فطرت پر بازی لے جانا اپنے نفس پر قابو پا لینے والی صلاحیت کے قریب لے جاتا ہے۔
• اپنے پیاروں کے لیے ہر انسان حساس ہوتا ہے (ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ سے ناراضگی اپنی بیٹی کی وجہ سے ہوئی لیکن بعد میں ترجیح اللہ کے حکم ہی کو دی) مگر "حُدُودُ اللہ" کا وقار بہرحال کسی بھی مسلمان کے لیے زیادہ اہم ہو گا۔
• منافقین جھوٹے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا کے حق میں آیات اتار کر اللہ نے ان کی پاکدامنی پر مُہر ثبت کر دی۔ سازشوں کے جال بُننے والے مناقین کے حصے میں کیا آیا؟ فقط "ذِلّت" (اس بات پر احادیث اور تاریخ گواہ ہیں)
• جہاں حق ہو گا وہاں حق کے مخالفین بھی ہوں گے۔ حق کا مقابلہ باطل سے کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے حق و اسلام کے مخالفین روزِ اوّل ہی سے مختلف قسم کے اشکال، پروپگنڈے اور غلط فہمیاں پیدا کر کے حق کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔
• اگر آپ کو رزق میں وُسعت دی گئی ہے تو مت بھولیں کہ اس رزق میں آپ کے غریب رشتہ داروں، مساکین، یتیموں، بیواؤں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہوئے لوگوں کا بھی حصہ ہے۔
• اسلام میں ذاتیات کو ترجیح نہیں دی گئی (اگر معاملہ ریاستی/عدالتی سطح پر ہوتا تو ابو بکر صدیق مِسطح بن اُثاثہ 'رضی اللہ عنھما' کو کبھی معاف نہ کرتے۔ لیکن اپنی ذات کو ترجیح دینے کی بجائے اسلامی حکم کو ترجیح دے کر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں سمجھا دیا کہ اسلام میں نِجی معاملات کو شرعی معاملات پر عمل کرنے کے راستے میں رکاوٹ بنانا درست نہ ہو گا)
• معاف کرنا اللہ کی سنت ہے۔ اللہ درگزر کرنے والے نرم دل انسان کو پسند فرماتا ہے (جنت میں جانے والے لوگوں کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح حسّاس اور نرم ہوں گے۔ مفھوم حدیث)
• دنیا کی زندگی میں اپنی ذات کی نفی کر دینا ہی دراصل آخرت میں بلندیِ درجات کا سبب بنے گی (یہ وہی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، جو انبیاء کے بعد پوری انسانیت میں سب سے زیادہ افضل، مُعزّز اور نیکیوں میں سب سے پہلا درجہ رکھنے والے انسان ہیں)
تحریر : محمد یاسر لاہوری

Comments
Post a Comment