Skip to main content

. آج ہمارا ایمان بالغیب انٹرنیٹ اور موبائیل کے ذریعے آزمایا گیا ہے، جہاں ایک کلک آپ کو وہ کچھ دکھا سکتی ھے

🔖خلوت کے گناہ (تنہائی کے گناہ)🔖




بہت جاندار و شاندار تحریر....پڑهئے گا ضرور...!!! اور آگے ضرور شٸر کیجٸے گا 

آج ہمارا ایمان بالغیب انٹرنیٹ اور موبائیل کے ذریعے آزمایا گیا ہے، جہاں ایک کلک آپ کو وہ کچھ دکھا سکتی ھے جو ہمارے باپ دادا   دیکھے بغیر اللہ کو پیارے ہو گئے ،، 
ہم نے خفیہ گروپ بنا کر اپنے اپنے گٹر کھول رکھے ھیں ،
(یستخفون من الناس) لوگوں سے تو چھپا لیتے ھیں (ولا یستخفون من اللہ و ھو معھم) مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے کیونکہ وہ ان کے ساتھ ھے ،
👈 ہمارا لکھا اور دیکھا ہوا سب ہمارے نامہ اعمال میں محفوظ ہو رہا ھے جہاں سے صرف اسے سچی توبہ ہی مٹا سکتی ہے

یہ سب امتحان اس لئے ہیں تاکہ (لیعلم اللہ من یخافه بالغیب) اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔

🔹یہ لکھنے والے ہاتھ اور پڑھنے والی آنکھیں ، سب ایک دن بول بول کر گواہی دیں گے ،،
: { الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ) (یسن – 65)
” آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ھم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔‘

’’ گناہ کے دوران ہمارا کوئی بیوی بچہ یہانتک کہ بلی یا ہوا کا جھونکا بھی دروازہ ہلا دے تو ہماری پوری ہستی ہل کر رہ جاتی ھے ،، کیوں ؟ رسوائی کا ڈر ،، امیج خراب ہونے کا ڈر ،، 

🔴 اس دن کیا ہو گا جب ہماری بیوی بچے اور والدین بھی سامنے دیکھ رہے ہونگے اور دوست واحباب بھی موجود ہونگے ،، زمانہ دیکھ رہا ہو گا اور تھرڈ ایمپائر کی طرح کلپ روک روک کر اور ریورس کر کے دکھایا جا رہا ہو گا ،، ہائے   رسوائی ،،،،،،،،،،،،،،،،

👈 آج بھی صرف توبہ کے چند لفظ اور آئندہ سے پرہیز کا عزم ہمارے پچھلے کیئے ہوئے کو صاف کر سکتا ہے.  اور ہمیں اس رسوائی سے بچا سکتا ھے ،،

🔹 اللہ کے رسول صلي الله عليه وسلم دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میرے باطن کو میرے ظاھر سے اچھا کر دے ،،

خلوت کے گناہ انسان کے عزم وارادے کو متزلزل کر کے رکھ دیتے ہیں.  یوں ان میں خود اعتمادی اور معاملات میں شفافیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ھے.
(اِتَّقِ الله حيث ما كنت) جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو.
اللّہ تعالٰی ہم سب کی حفاظت  فرمائے.
 آمِین...".

ايک دن آپ تمام دوست مجھے Off line پائيں گے۔۔!
فرينڈ ريكوسٹ بھيجيں گے ليكن ايكسیپٹ نہيں ہوگى، ميسنجر پہ  پيغام بھيجيں گے اور رپلائى كا گھنٹوں انتظار كرتے رہيں گے،
 ليكن جواب نہيں ملے گا۔ ۔۔! 

میں آپ كو سٹِل Off line نظر آؤں گا۔۔۔
ميرى پوسٹيں بھى آنا بند ہوجائيں گى،
كيونكہ ميں اس دنيا سے رخصت ہوچكا ہوں گا،
پھر آپ ميرے  ساتھ كسى قسم كا كوئى رابطہ نہيں كر سكيں گے،  ميرے كمنٹس كا رپلائى نہيں دے سكيں گے، ايكسكيوز نہيں كر سكيں گے، معذرت نہيں كر سكيں گے ۔۔!

كيونكہ ميں اس وقت آپ كے ساتھ نہيں ہوں گا۔۔
قبر كے تنگ و تاريك گڑھے ميں ابدى نيند سويا ہوں گا۔۔۔ 

وہاں ميں ٹائم پاس اور تنہائى كو دور كرنے كے ليے كسى سے چيٹ نہيں كر سكوں گا۔۔
وہاں ميرے  اعمال ہى ميرے ليے حسرت اور خوشى كا ساماں ہوں گے۔۔۔

🤚ٹھہريے!
اہم اور ضرورى بات ابھى باقى ہے:

ميں اور آپ جب اس دنيا سے رحلت كر جائيں گے  تو ہم  اپنے ہاتھ سے لكھى گئى اچھى يا بُرى پوسٹيں چھوڑ جائیں گے۔۔۔!

لہذا میرے دوستو۔۔۔! 

آپ بھى اس بات كى حرص كيجيے اور ميں بھى حرص كرتا ہوں، كہ ہمارى لكھى گئى پوسٹيں قبر ميں ہمارے ليے صدقہ جاريہ بن جائيں۔۔۔

تو جلدى كيجيے !

اپنى ٹائم لائن كا جائزہ ليں غير ضرورى پوسٹوں كو ڈيليٹ كريں، اور آئندہ ايسى پوسٹيں كرنے سے گريز كريں۔ 

ابھى آپ كے پاس فرصت اور وقت ہے۔۔! 

 *كيونكہ ابھى تو آپ دنيا ميں اور فيس بك پر On line  ہيں۔۔* ۔!

ميں اپنے نفس كو اور آپ كو عربى كے اس شعر كى ياددہانى كروانا چاہتا ہوں: 

 *يلوح الخط في القرطاس* 
 *دهرا وكاتبه رميم في التراب* 

"ہمارا لكھا ہوا زمانہ بھر باقى رہے گا، جبكہ ہم مٹى ميں دھول بن جائيں گے۔"

 *خرجت من التراب بغير ذنب* 
 **وعدت مع الذنوب إلى التراب* 
" *ہم مٹى سے تو بغير گناہ كے نكلے تھے، ليكن مٹى ميں گناہ لے كر جارہے ہيں۔"* 

👈ا *گر آپ پڑھ چکے ہیں تو اپنے دوستوں کو اس پیغام سے محروم نہ رکھیں۔ جزاکم اللہ خیر

#منقول 



#دلچسپ_اردو_تحریریں

Comments

Popular posts from this blog

دیوث کسے کہتے ہیں اور دیوث کی سزا کیا ہے؟

*دیوث کسے کہتے ہیں اور دیوث کی سزا کیا  ہے؟* جو شخص اپنے اہل وعیال اور محرم عورتوں کے بارے دینی غیرت و حمیت سے خالی ہو یعنی ان کی بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو دیکھے لیکن خاموش رہے تو وہ دیوث ہے۔  ایسے شخص کے بارے حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف قیامت والے دیکھے گا بھی نہیں۔ ومَن لا يغار على أهله ومحارمه : يُسمَّى : " ديّوثاً " ، والدّياثة من الرّذائل الّتي ورد فيها وعيد شديد ، وما ورد فيه وعيد شديد يعدّ من الكبائر عند كثير من علماء الإسلام ، جاء في الحديث : ( ثلاثة لا ينظر اللّه عزّ وجلّ إليهم يوم القيامة : العاقّ لوالديه ، والمرأة المترجّلة ، والدّيّوث )- رواه النسائي ( 2561 ) وصححه الألباني في صحيح سنن النسائي . دیوث کون ہے؟؟؟؟؟؟ جو مرد اپنی عورتوں کے بارے غفلت کا شکار ہیں ایسے مرد کچھ اور نہیں بس دیوث {بے غیرت} ہیں۔۔ جو شخص غیرت مند نہیں ہوتا وہ ’’دیوث‘‘ ہوتا ہے۔’شرعی اصطلاح میں ’دیوث ‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے گھر میں بدکاری فحاشی اور غلط روش کودیکھتا ہے اور اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ایسے شخص کے متعلق فرمان نبوی ہے کہ وہ جنت میں نہیں جاسکے گا۔۔۔۔ حدیث رسول ...

❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں

*بامحاورہ ترجمہ اور مختصر تفسیر* سورۃُ النـَّبأ : 78 (مکی) کل آیات : 40 آج کا سبق نمبر : 4(4) آیت نمبر : 34 تا 40 بِسۡمِ ﷲِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵۔  ⭕ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ⭕ ⭕ حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ⭕ ⭕ وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ⭕ ❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں ( آج کا سبق ) ⭕ وَكَأْسًا دِهَاقًا ⭕ ⭕ لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ⭕ ➍❸ اور (اُن کی صحبت میں پینے کے لیـے) چھلکتے جام۔ ➎❸ وہاں وہ کوئی بـے ہودہ بات اور کوئی بہتان نہ سنیں گے۔ 📄 یعنی ان کے لیـے شرابِ خالص کے چھلکتے جام ہوں گے لیکن یہ شراب ان لغویات سے بالکل پاک ہو گی جو اس دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ کیف و سرور میں وہ سب سے بڑھ کر ہو گی لیکن عقل و ہوش کو ماؤف نہیں کرے گی کہ ترنگ میں آ کر انسان خیالی پلاؤ پکانے اور دروغ گوئی کرنے پر اتر آئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہـے کہ شراب کی بدمستی میں بسا اوقات شرابی ایسی بـے ہودہ تہمتیں بک دیتے ہیں جو ...

‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“

بادشاہ نے وزیر سے پوچھا  ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“   وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا  ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“ ‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“  وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“  بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور اسے دو احکامات لکھنے کا حکم دیا‘  بادشاہ نے پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا‘  دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا‘  وزیر دونوں احکامات پر حیران رہ گیا‘  بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائی اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ”تمہارے پاس تیس دن ہیں‘ تم نے ان 30 دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں‘ تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا ...