Skip to main content

موقع استمعال کیجیے

 موقع استمعال کیجیے



زںدگی مییں مواقع ہر انسان کے پاس اتے ہیں  جو بندہ اسے استمعال کر لے وہی کامیاب انسان   ھے اور جو استمعال نہ کر سکے وہی ناکام انسان ھے وہ مواقع چاہے دنیا کے اعتبار سے ھوں یا دین کے اعتبار یا کاروبار کے اعتبار سے ھوں یا پھر اخرت کےا عتبار سے

اس دنیا میں صرف دو بندوں کو ہی اللہ تعالی کا براےراست سلام پہنچا   ھے اور اس سے بڑا کوی اعزاز نہیں ھے کاںنات میں

ایک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ کو اور دوسرا ہماری جان سے بھی پیاری ماں  اماں جی خدیجہ رضی اللہ عنہ کو ان دونوں ہستیوں نے موقع ضاںع نہیں کیا  اماں جی کے سامنے حق کو قبول کرنے کا جب موقع ایا تو انہوں نے قبول کرنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں اس موقع کو استمعال کر کے دنیا کی سب سے عظیم خاتون بن گن گںی اور دنیا کی کوی عورت ان کا مقابلہ نہ کر سکی

ایسے ہی جب صدیق اکبر کے سامنے حق قبول کرنے کا موقع ایا تو انہوں نے بھی ایک لمحے کی تاخیر نہ کر کے اور اس موقع کو استمعال کر کے انسانیت میں پہلا نمبر لے گے اور دنیا کا کوی انسان ان کا مقابلہ نہ کر سکا[سواے انبیا کرام کے]

اللہ تعالی نے بھی پہلا نمبر انہیں کو ہی دیا جنہوں نے موقع ضاںع نہیں ھونے دیا  

اور جنہوں نے مواقع ضاںع کر دیے۔ وہ کوئی  ابو جہل بن گیا۔ اور کو ی ابو لہب ۔۔اور صرف اخرت کی نہیں ۔۔دنیا کی بھی ذلتیں اور ناکامیاں مقدر بن گںی

اور یہ موقعے زندگی میں کم از کم ایک بار تو ہر بندے کا دروازا کھٹکٹھاتے ہیں  عقلمند اور خوش قسمت ھے وہ انسان جو لیبیک کہ دے ۔۔

اللہ تعالی نے بھی ہمیشہ مواقع کو استمعال کرنے والوں کو ہی کامیاب کیا ھے۔۔ لہزا اللہ کی منشا۶ کو پہچانیے۔۔ اور اگر ہم سے بھی کوی مواقع ضاںع ھو گے ہیں تو اب بھی وقت ھے  کیونکہ کہ زندگی کا باقی ھونا بھی ایک موقع ھے

موقع کو پہچانیے  اگر کوی موقع پیدا ھو تو فورن اس کو استمعال کیجیے اپ یقیننا بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کریں گے خواہ  دنیا کی    



 ھو یا پھر اخرت کی. 

Comments

Popular posts from this blog

دیوث کسے کہتے ہیں اور دیوث کی سزا کیا ہے؟

*دیوث کسے کہتے ہیں اور دیوث کی سزا کیا  ہے؟* جو شخص اپنے اہل وعیال اور محرم عورتوں کے بارے دینی غیرت و حمیت سے خالی ہو یعنی ان کی بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو دیکھے لیکن خاموش رہے تو وہ دیوث ہے۔  ایسے شخص کے بارے حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف قیامت والے دیکھے گا بھی نہیں۔ ومَن لا يغار على أهله ومحارمه : يُسمَّى : " ديّوثاً " ، والدّياثة من الرّذائل الّتي ورد فيها وعيد شديد ، وما ورد فيه وعيد شديد يعدّ من الكبائر عند كثير من علماء الإسلام ، جاء في الحديث : ( ثلاثة لا ينظر اللّه عزّ وجلّ إليهم يوم القيامة : العاقّ لوالديه ، والمرأة المترجّلة ، والدّيّوث )- رواه النسائي ( 2561 ) وصححه الألباني في صحيح سنن النسائي . دیوث کون ہے؟؟؟؟؟؟ جو مرد اپنی عورتوں کے بارے غفلت کا شکار ہیں ایسے مرد کچھ اور نہیں بس دیوث {بے غیرت} ہیں۔۔ جو شخص غیرت مند نہیں ہوتا وہ ’’دیوث‘‘ ہوتا ہے۔’شرعی اصطلاح میں ’دیوث ‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے گھر میں بدکاری فحاشی اور غلط روش کودیکھتا ہے اور اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ایسے شخص کے متعلق فرمان نبوی ہے کہ وہ جنت میں نہیں جاسکے گا۔۔۔۔ حدیث رسول ...

❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں

*بامحاورہ ترجمہ اور مختصر تفسیر* سورۃُ النـَّبأ : 78 (مکی) کل آیات : 40 آج کا سبق نمبر : 4(4) آیت نمبر : 34 تا 40 بِسۡمِ ﷲِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵۔  ⭕ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ⭕ ⭕ حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ⭕ ⭕ وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ⭕ ❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں ( آج کا سبق ) ⭕ وَكَأْسًا دِهَاقًا ⭕ ⭕ لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ⭕ ➍❸ اور (اُن کی صحبت میں پینے کے لیـے) چھلکتے جام۔ ➎❸ وہاں وہ کوئی بـے ہودہ بات اور کوئی بہتان نہ سنیں گے۔ 📄 یعنی ان کے لیـے شرابِ خالص کے چھلکتے جام ہوں گے لیکن یہ شراب ان لغویات سے بالکل پاک ہو گی جو اس دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ کیف و سرور میں وہ سب سے بڑھ کر ہو گی لیکن عقل و ہوش کو ماؤف نہیں کرے گی کہ ترنگ میں آ کر انسان خیالی پلاؤ پکانے اور دروغ گوئی کرنے پر اتر آئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہـے کہ شراب کی بدمستی میں بسا اوقات شرابی ایسی بـے ہودہ تہمتیں بک دیتے ہیں جو ...

‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“

بادشاہ نے وزیر سے پوچھا  ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“   وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا  ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“ ‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“  وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“  بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور اسے دو احکامات لکھنے کا حکم دیا‘  بادشاہ نے پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا‘  دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا‘  وزیر دونوں احکامات پر حیران رہ گیا‘  بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائی اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ”تمہارے پاس تیس دن ہیں‘ تم نے ان 30 دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں‘ تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا ...