Skip to main content

Need to know.......







بیس سال قبل اس شاہین کی پیٹھ پر ایک 
ڈیوائس لگائی گئی تھی،پچھلے بیس سال سے شاہین کی اک اک حرکت اس ڈیوائس کے ذریعے محفوظ ہوتی گئی۔

اس نے روس سے اپنا سفر شروع کیا مختلف ممالک سے ہوتا یہ سعودی عرب پہنچتا،ایسے درجنوں سفر اس نے روس سے سعودی عرب تک کئے،عجیب بات یہ ہے کہ ایک بار بھی اس نے سمندر کے اوپر پرواز نہیں کیا،جہاں سمندر عبور کرنے کی ضرورت پڑی وہاں سب سے کم فاصلے والی جگہ کا انتخاب کیا اور سمندر کے اوپر پرواز کیا.
بیس سال کا یہ سفر مکہ مکرمہ کے جنوب میں وادی طفیل میں تمام ہوا،شاہین کی زندگی کا باب بند ہوگیا.

میرے لئے اس شاہین میں اہم یہ ہے کہ اس چھوٹے سے پرندے کو اللہ تعالی کی طرف سے کتنی راہنمائی اور طاقت حاصل ہے کہ یہ ہزاروں کلو میٹر کے فاصلے طے کرتا ہے اور اسے اپنے فضائی روٹس کا علم ہے۔
ایک چھوٹی سی ڈیوائس کے ذریعے جس طرح اس شاہین کے روز و شب محفوظ کئے گئے۔
 بعینہ کراما کاتبین ہم میں سے ہر انسان کی ہر ہر حرکت محفوظ کر رہے ہیں ہمارے ساتھ کراماً کاتبین مقرر کرنے میں اللہ تعالیٰ حکمت یہ ہے  کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے کائنات کی تمام اشیاء کو ایک نظم کےساتھ ترتیب دیا۔ اور اس نظم کو نہایت عمدگی اور خوبی کے ساتھ مضبوط ومستحکم کیا ہے حتیٰ کہ  انسانوں کے اقوال اور افعال کے لکھنے کےلئے اس نے کراماً کاتبین کو مقررفرمادیا ہے۔حالانکہ وہ علام الغیوب تو ہمارے کرنے سے پہلے ہمارے اقوال وافعال کوجانتاہے۔ لیکن یہ سارا نظام اس بات کا مظہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے انسان کو کمال درجہ کی اہمیت دی ہے۔اور  اس نے کائنا ت کے نظام کو کمال طریقے سے ترتیب دیا ہے۔

اَللَّهُمَّ حَاسِبْنِا حِسَابًا يَّسِيرًا (اے الـلــَّـه! تو ھم سے حساب میں آسانی کرنا.   آمین )

Comments

Popular posts from this blog

دیوث کسے کہتے ہیں اور دیوث کی سزا کیا ہے؟

*دیوث کسے کہتے ہیں اور دیوث کی سزا کیا  ہے؟* جو شخص اپنے اہل وعیال اور محرم عورتوں کے بارے دینی غیرت و حمیت سے خالی ہو یعنی ان کی بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو دیکھے لیکن خاموش رہے تو وہ دیوث ہے۔  ایسے شخص کے بارے حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف قیامت والے دیکھے گا بھی نہیں۔ ومَن لا يغار على أهله ومحارمه : يُسمَّى : " ديّوثاً " ، والدّياثة من الرّذائل الّتي ورد فيها وعيد شديد ، وما ورد فيه وعيد شديد يعدّ من الكبائر عند كثير من علماء الإسلام ، جاء في الحديث : ( ثلاثة لا ينظر اللّه عزّ وجلّ إليهم يوم القيامة : العاقّ لوالديه ، والمرأة المترجّلة ، والدّيّوث )- رواه النسائي ( 2561 ) وصححه الألباني في صحيح سنن النسائي . دیوث کون ہے؟؟؟؟؟؟ جو مرد اپنی عورتوں کے بارے غفلت کا شکار ہیں ایسے مرد کچھ اور نہیں بس دیوث {بے غیرت} ہیں۔۔ جو شخص غیرت مند نہیں ہوتا وہ ’’دیوث‘‘ ہوتا ہے۔’شرعی اصطلاح میں ’دیوث ‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے گھر میں بدکاری فحاشی اور غلط روش کودیکھتا ہے اور اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ایسے شخص کے متعلق فرمان نبوی ہے کہ وہ جنت میں نہیں جاسکے گا۔۔۔۔ حدیث رسول ...

❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں

*بامحاورہ ترجمہ اور مختصر تفسیر* سورۃُ النـَّبأ : 78 (مکی) کل آیات : 40 آج کا سبق نمبر : 4(4) آیت نمبر : 34 تا 40 بِسۡمِ ﷲِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵۔  ⭕ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ⭕ ⭕ حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ⭕ ⭕ وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ⭕ ❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں ( آج کا سبق ) ⭕ وَكَأْسًا دِهَاقًا ⭕ ⭕ لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ⭕ ➍❸ اور (اُن کی صحبت میں پینے کے لیـے) چھلکتے جام۔ ➎❸ وہاں وہ کوئی بـے ہودہ بات اور کوئی بہتان نہ سنیں گے۔ 📄 یعنی ان کے لیـے شرابِ خالص کے چھلکتے جام ہوں گے لیکن یہ شراب ان لغویات سے بالکل پاک ہو گی جو اس دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ کیف و سرور میں وہ سب سے بڑھ کر ہو گی لیکن عقل و ہوش کو ماؤف نہیں کرے گی کہ ترنگ میں آ کر انسان خیالی پلاؤ پکانے اور دروغ گوئی کرنے پر اتر آئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہـے کہ شراب کی بدمستی میں بسا اوقات شرابی ایسی بـے ہودہ تہمتیں بک دیتے ہیں جو ...

‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“

بادشاہ نے وزیر سے پوچھا  ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“   وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا  ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“ ‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“  وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“  بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور اسے دو احکامات لکھنے کا حکم دیا‘  بادشاہ نے پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا‘  دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا‘  وزیر دونوں احکامات پر حیران رہ گیا‘  بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائی اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ”تمہارے پاس تیس دن ہیں‘ تم نے ان 30 دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں‘ تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا ...