Skip to main content

Some times de motivation is strong than motivation



ﻣﯿﻨﮉﮐﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺑﮯ ﺩﮬﯿﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﮍﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮔﺮﮮ۔
ﺑﺎﮨﺮ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﻣﯿﻨﮉﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮔﮍﮬﺎ ﺍﻥ ﺩﻭ ﻣﯿﻨﮉﮐﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺳﺘﻄﺎﻋﺖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﮬﺎﺋﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ، ﺗﻢ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮧ ﻧﮑﻞ ﭘﺎﺅ ﮔﮯ، ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮨﻠﮑﺎﻥ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ، ﮨﺎﺭ ﻣﺎﻥ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻭ۔
ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺩﻝ ﮨﯽ ﮈﻭﺏ ﮔﯿﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻨﺪ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻮﺍ ﺻﺪﻣﮯ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﮕﮧ ﺑﺪﻝ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ، ﺟﻤﭗ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﭘﻮﺭﮮ ﺯﻭﺭ ﻭ ﺷﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﯿﭩﯿﺎﮞ ﺑﺠﺎ ﮐﺮ، ﺁﻭﺍﺯﮮ ﮐﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ، ﺍﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﺖ ﮨﻠﮑﺎﻥ ﮨﻮ، ﻣﻮﺕ ﺗﯿﺮﺍ ﻣﻘﺪﺭ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺳﺎﺭﮮ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻭﺍﻻ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﺗﻮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺮﺍ ﺗﮭﺎ۔
ﻣﯿﻨﮉﮎ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﻗﺖ ﯾﮩﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﮩﯽ ﺧﻮﺍﮦ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﯿﮟ، ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﺑﻨﺪﮬﻮﺍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺵ ﺩﻻ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻋﺰﻡ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔
_ ﻧﺘﯿﺠﮧ _: * ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﭘﺮ ﺑﺪﺩﻝ ﻣﺖ ﮨﻮﮞ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﮯ ﻧﺸﺘﺮ ﮐﯽ ﺳﯿﮍﮬﯿﺎﮞ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﺟﺎﺅ۔۔۔۔ *

Comments

Popular posts from this blog

❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں

*بامحاورہ ترجمہ اور مختصر تفسیر* سورۃُ النـَّبأ : 78 (مکی) کل آیات : 40 آج کا سبق نمبر : 4(4) آیت نمبر : 34 تا 40 بِسۡمِ ﷲِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵۔  ⭕ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ⭕ ⭕ حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ⭕ ⭕ وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ⭕ ❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں ( آج کا سبق ) ⭕ وَكَأْسًا دِهَاقًا ⭕ ⭕ لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ⭕ ➍❸ اور (اُن کی صحبت میں پینے کے لیـے) چھلکتے جام۔ ➎❸ وہاں وہ کوئی بـے ہودہ بات اور کوئی بہتان نہ سنیں گے۔ 📄 یعنی ان کے لیـے شرابِ خالص کے چھلکتے جام ہوں گے لیکن یہ شراب ان لغویات سے بالکل پاک ہو گی جو اس دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ کیف و سرور میں وہ سب سے بڑھ کر ہو گی لیکن عقل و ہوش کو ماؤف نہیں کرے گی کہ ترنگ میں آ کر انسان خیالی پلاؤ پکانے اور دروغ گوئی کرنے پر اتر آئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہـے کہ شراب کی بدمستی میں بسا اوقات شرابی ایسی بـے ہودہ تہمتیں بک دیتے ہیں جو ...

ایک دفعہ میں حج کرنے گیا ، وہاں منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں مَیں نے ایک شخص کو دیکھا جو بلند آواز کے ساتھ بار بار پکار رہا تھا لبیک لبیک لبیک اور غیب سے آواز آتی لا لبیک لا لبیک لالبیک سرکار فرماتے ہیں

 حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حج کرنے گیا ، وہاں منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں مَیں نے ایک شخص کو دیکھا جو بلند آواز کے ساتھ بار بار پکار رہا تھا لبیک لبیک لبیک اور غیب سے آواز آتی لا لبیک لا لبیک لالبیک سرکار فرماتے ہیں کہ یہ سارا ماجرا دیکھ کر میں نے اس شخص کو بازو سے پکڑا اور بھرے مجمع سے باہر لے آیا اور پوچھابھلے مانس تجھے پتہ ہے کہ جب تو پکارتا ہے کہ اےمیرے اللّہ ﷻ میں حاضر ہوں تو عالمِ غیب سے حاتِب کی آوز آتی ہے نہیں تو حاضر نہیں ہے تو وہ شخص بولا ہاں معین الدینؒ میں جانتا ہوں اور یہ سلسلہ پچھلے 24 سالوں سے جاری ہے یہ میرا چوبیسواں حج ہے وہ بڑا بے نیاز ہے میں ہر سال یہی امید لیکر حج پر آتا ہوں کہ شايداس دفعہ میرا حج قبول ہو جاۓ لیکن ہر سال ناکام لوٹ جاتاہوں سرکارؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا کہ ہر بار ناکامی ،اور نامرادی کے باوجود تو پھر کیوں چلا آتا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ رُندھی  ہوٸی آواز میں گڑگڑاتے ہوۓ بولا  ۔ اے معین الدینؒ تو بتا میں یہاں نہ آٶں تو کدھر جاٶں اُس کے سوا میرا کون ہےکون میری باتیں سننے والا ہےکون ...

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ،

#وقت_اور_دولت #حکایت ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا: " تمھاری عمر کتنی ہے؟" تاجر نے کہا "20 سال۔ " " تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ " تا جرنے کہا۔۔۔ "70 ہزار دینار" بادشاہ نے پوچھا: "تمھارے بچے کتنے ہیں؟ " تاجر نے جواب دیا: "ایک" واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا: "اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس ...