Skip to main content

ﺍﯾﺴﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﮩﮧ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮔﮯ۔

ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻧﮯ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩے دﯾﺎ،
ﺍﯾﺴﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﮩﮧ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮔﮯ
ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﺣﻼﻝ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺫﺑﺢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ۔
ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﻧﺎﺻﺮﻑ ﺣﺮﺍﻡ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺫﺑﺢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺣﻼﻝ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ …

ﺗﺎﮨﻢ ﺍﺏ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ دﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﮩﮧ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮔﮯ۔
ﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎلٰیٰ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ.
مچھلی ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﻮﻥ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﮧ ”ﺍﯾﭙﯽ ﮔﻠﻮﭨﺲ“ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻗﻄﺮﮦ “ﺍﯾﭙﯽ ﮔﻠﻮﭨﺲ” ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ کر باقی گوشت کو خون سے پاک کر کے ﺍﺱ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺧﺎﻟﺺ ﺍﻭﺭ ﺣﻼﻝ کر دیتا ﮨﮯ. 
ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ.
ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ”ﺍﯾﭙﯽ ﮔﻠﻮﭨﺲ“ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
اسلام میں حلال کرنے کا مقصد جانور کے جسم سے خون کا مکمل اخراج اور گوشت کو خون سے پاک کرنا ھے.
ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺣﻼﻝ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﮭﯽ ﺁﺷﮑﺎﺭ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﮑﺎ ﺑﮑﺎ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ …. 
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﺫﺑﺢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﺎ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﻭﺭﯾﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺗﮏ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺧﻮﻥ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺣﻼﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﯾﻌﻨﯽ ”ﺟﮭﭩﮑﮯ“ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮨﻼﮎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﻓﻮﺭﺍً ﺩﮬﮍﮐﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ۔
ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺳﻨﮕﯿﻦ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺮﺍﺛﯿﻤﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮑﭩﺮﯾﺎﺯ ﮐﯽ ﺍﻓﺰﺍﺋﺶ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ. 
ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

Comments

Popular posts from this blog

❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں

*بامحاورہ ترجمہ اور مختصر تفسیر* سورۃُ النـَّبأ : 78 (مکی) کل آیات : 40 آج کا سبق نمبر : 4(4) آیت نمبر : 34 تا 40 بِسۡمِ ﷲِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵۔  ⭕ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ⭕ ⭕ حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ⭕ ⭕ وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ⭕ ❶❸ خدا سے ڈرنے والوں کے لیـے، البتہ اُس دن بڑی فیروزمندی ہـے۔ ❷❸ (رہنے کے لیـے) باغ اور (کھانے کے لیـے) انگور ❸❸ اور (دل بہلانے کے لیـے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں ( آج کا سبق ) ⭕ وَكَأْسًا دِهَاقًا ⭕ ⭕ لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ⭕ ➍❸ اور (اُن کی صحبت میں پینے کے لیـے) چھلکتے جام۔ ➎❸ وہاں وہ کوئی بـے ہودہ بات اور کوئی بہتان نہ سنیں گے۔ 📄 یعنی ان کے لیـے شرابِ خالص کے چھلکتے جام ہوں گے لیکن یہ شراب ان لغویات سے بالکل پاک ہو گی جو اس دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ کیف و سرور میں وہ سب سے بڑھ کر ہو گی لیکن عقل و ہوش کو ماؤف نہیں کرے گی کہ ترنگ میں آ کر انسان خیالی پلاؤ پکانے اور دروغ گوئی کرنے پر اتر آئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہـے کہ شراب کی بدمستی میں بسا اوقات شرابی ایسی بـے ہودہ تہمتیں بک دیتے ہیں جو ...

ایک دفعہ میں حج کرنے گیا ، وہاں منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں مَیں نے ایک شخص کو دیکھا جو بلند آواز کے ساتھ بار بار پکار رہا تھا لبیک لبیک لبیک اور غیب سے آواز آتی لا لبیک لا لبیک لالبیک سرکار فرماتے ہیں

 حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حج کرنے گیا ، وہاں منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں مَیں نے ایک شخص کو دیکھا جو بلند آواز کے ساتھ بار بار پکار رہا تھا لبیک لبیک لبیک اور غیب سے آواز آتی لا لبیک لا لبیک لالبیک سرکار فرماتے ہیں کہ یہ سارا ماجرا دیکھ کر میں نے اس شخص کو بازو سے پکڑا اور بھرے مجمع سے باہر لے آیا اور پوچھابھلے مانس تجھے پتہ ہے کہ جب تو پکارتا ہے کہ اےمیرے اللّہ ﷻ میں حاضر ہوں تو عالمِ غیب سے حاتِب کی آوز آتی ہے نہیں تو حاضر نہیں ہے تو وہ شخص بولا ہاں معین الدینؒ میں جانتا ہوں اور یہ سلسلہ پچھلے 24 سالوں سے جاری ہے یہ میرا چوبیسواں حج ہے وہ بڑا بے نیاز ہے میں ہر سال یہی امید لیکر حج پر آتا ہوں کہ شايداس دفعہ میرا حج قبول ہو جاۓ لیکن ہر سال ناکام لوٹ جاتاہوں سرکارؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا کہ ہر بار ناکامی ،اور نامرادی کے باوجود تو پھر کیوں چلا آتا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ رُندھی  ہوٸی آواز میں گڑگڑاتے ہوۓ بولا  ۔ اے معین الدینؒ تو بتا میں یہاں نہ آٶں تو کدھر جاٶں اُس کے سوا میرا کون ہےکون میری باتیں سننے والا ہےکون ...

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ،

#وقت_اور_دولت #حکایت ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا: " تمھاری عمر کتنی ہے؟" تاجر نے کہا "20 سال۔ " " تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ " تا جرنے کہا۔۔۔ "70 ہزار دینار" بادشاہ نے پوچھا: "تمھارے بچے کتنے ہیں؟ " تاجر نے جواب دیا: "ایک" واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا: "اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس ...